مجھے کچھ بدلے بدلے نظر آرھے ہو
یہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا زمانہ خلافت ھے۔۔۔۔۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس تشرف فرما ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنے میں ایک شخص آتا ھے اور کہتا ھے اے امیرالمؤ منین مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اختلاف ھے ۔۔۔۔۔۔۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔۔۔۔۔ اے اباالحسن اٹھو اپنے اس مخالف کے ساتھ بیٹھو اور اپنی صفائ پیش کرو ۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اٹھے اور اس کے پاس جاکر بیٹھ گئے۔۔۔۔۔۔۔ پھر دونوں میں بحث ہونے لگی ۔۔۔۔ پھر وہ آدمی وہاں سے چلاگیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی جگہ واپس آکر بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے محسوس کرلیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ بات بہت سخت ناگوار گزری ھے۔۔۔۔۔۔ حضرت عمر نے فرمایا اے علی رضی اللہ عنہ شاید تمہیں یہ بات ناگوار گزری کہ آپ اتنے مرتبہ والے ہیں اور میں نے آپ کو اس ایک عام آدمی کے ساتہ بیٹھنے کا حکم دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔۔۔۔۔۔ مجھے یہ بات ناگوارگزری کہ جب اس آدمی نے مجھ پر الزام لگایا تو آپ نے مجھے میری کنیت ابالحسن سے کیوں پکارا۔۔۔۔۔۔ (کیونکہ اس زمانے میں عزت دار آمی کو کنیت سے پکارا جاتا تھا) میں اس وقت آپ کے سامنے ایک مجرم تھا آپ یوں تو کہ سکتے تھے اے علی رضی اللی عنہ اٹھو اور اپنے مخالف کے سامنے بیٹھ کر صفائ پیش کرو۔۔۔۔۔۔۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ اٹھے اور بے اختیار حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گلے لگاکر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا منہ چومنے لگے اور فرمانے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ لوگوں کے ذریعے اللہ تعلی نے ہمیں ہدایت عطا فرمائ۔۔۔۔۔۔۔ اور آپ لوگوں کے ذریعہ ہی ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے۔۔۔۔۔۔۔
Tags: آرھے, بدلے, مجھے, نظر, کچھ, ہو